علی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔