عبد بن خیر علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ صحیح - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

علی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔