عرفہ کے دن کے علاوہ کسی دن اتنے لوگوں کو اللہ تعالی جہنم سے خلاصی نہیں دیتا ہے جتنا عرفہ کے دن دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حاجی بندوں سے حقیقتاً قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے رشک کرتا ہے اور ان کے سامنے حاجیوں کی فضیلت اور ان کا شرف بتاتا ہے۔ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جلالت و عظمتِ شان کے مطابق سچ مُچ اپنے بندوں سے قریب ہے، وہ عرش پر مستوی ہے، مخلوق سے الگ ہے اور حقیقت میں ان سے قریب اور پاس ہوتا ہے۔ اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کہ انہوں نے اپنے گھر بار کو اور وطنوں کو چھوڑا، اپنا مال خرچ کرکے، جسموں کو تھکا کر آئے، یعنی یہ اپنے گناہوں کی مغفرت، اللہ کی رضا، اس کے قرب اور ملاقات کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ جو وہ چاہیں گے وہ انہیں ملے گا، ان کے درجات ان کی نیتوں کے بقدر ہوں گے۔