اس حدیث شریف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ان کے ساتھ موجود سارا پانی ختم ہوگیا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو یہ بشارت سنائی کہ انھیں آگےپانی مل جائے گا،جس کو سن کر قوم میں تیزی سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ انتظار کیے بغیر نبی ﷺ سے آگے بڑھ گیے اورابوقتادہ کے بشمول کچھ صحابہ کرام (نبی ﷺ کے ہمراہ رہ گیے)، رات کا وقت تھا اور رسول اللہ ﷺ اونگھنے لگتے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو ایسے سہارا دیتے کہ آپ سواری سے گر نہ پڑیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (آخری بار) ان کے سہارا دینے کی وجہ سے بیدار ہوگیے اور ان کے حق میں حفظ و امان کی ویسے ہی دعاء فرمائی جیسے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے (کہ آیا آپ ﷺ، آگے پہنچ جانے والوں سے آگے یا پیچھے ہیں) مقام کے تعلق سے لوگوں کی الگ الگ رائے ہوگی اور یقینا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنھما انہیں یہ بتائیں گے کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے ہیں اور یقینا اگر یہ لوگ ان دونوں کی بات مان لیں تو صحیح راہ پالیں گے، اور یہ نبی ﷺ کی نبوی نشانیوں میں سے ہے، پھر وہ سب رات کو سوگیے اور سورج کی تپش ہی نے انہیں نیند سے بیدار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ جوشخص نماز سے سو جائے اور جان بوجھ کر اس نے نماز نہ چھوڑی ہو تو یہ تقصیر و کوتاہی نہ ہوگی، لیکن کوتاہ تو وہ شخص ہوگا جو اس نماز کو ادا کرنے کے بجائے، اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کا وقت ہی نکل جائے، جب نبی ﷺ اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام آگے بڑھ جانے والی قوم سے جاملے اور وہ اس حال میں تھے کہ قریب تھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تو نبی ﷺ نے انہیں یہ بشارت سنائی کہ وہ بالکل ہلاک نہ ہوں گے بلکہ وہ سارے کے سارے لوگ ہی سیراب ہوں گے اور آپ ﷺ نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کاوہ برتن منگایا جس کو وہ آپ ﷺ کے وضو کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور وہ چھوٹا سا برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں وضو فرمایا اور لوگوں کو اس میں سے پینے کے لیے بلایا۔ تمام لوگ پی چکے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گیے۔ نبی ﷺ کی اس خبر و آگہی کے بعد کہ قوم کو پلانے والے پر ضروری ہے کہ وہ سب سے آخر میں پیئے،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پی لیا۔ اور یہ نبی ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔