اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے اس مکان میں قرآن پڑھ رہے تھے جہاں کھجوروں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ان کا گھوڑا ایک کنارے بندھا ہوا تھا، ان کا بیٹا یحیٰ اسی کے قریب سویا ہوا تھا، جب انہوں نے تلاوت کی تو ان کا گھوڑا کود پھاند مچانے لگا، پھر جب وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہو گیا، دوبارہ انہوں نے پڑھنا شروع کیا پھر وہ کود پھاند مچانے لگا، اس طرح تین بار ہوا تو اسیدرضی اللہ عنہ ڈرے کہ کہیں ان کا بیٹا یحیٰ گھوڑے کے پاؤں سے روندا نہ جائے، انہوں نے تلاوت ترک کردی اور گھوڑے کے پاس جا کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کہ وہ کیوں اچھل کود مچا رہا ہے، انہوں نے اس کے اوپر ایک بدلی کی طرح دیکھا جس میں چراغ کے مشابہ کچھ چیزیں تھیں، وہ بدلی آسمان کی طرف چڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ اسے دیکھنے پر قادر نہ رہے، صبح اسید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اوپر بیتا حادثہ کہہ سنایا تو نبی ﷺ نے ان کا خوف دور کرنے، ان کے اس بلند مرتبہ سے آگاہ کرنے اور ان کی طمانیت و سکون کو مزید مؤکد کرنے کے لیے ان سے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ تاکید کے لیے آپ ﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، یعنی اسی طرح تلاوت کرتے رہو، اس پر مداومت برتو جس کے سبب یہ عجیب وغریب واقعہ پیش آیا (در اصل آپ ﷺ نے) انہیں اس بات کا درس دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس طرح کی کوئی چیز مستقبل میں اگر نمودار ہوتو اپنی تلاوت کو ترک مت کرنا بلکہ اس عظیم فضیلت کی خاطر مسلسل تلاوت کرتے رہنا، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ فرشتے تھے جو تلاوتِ قرآن کو سن رہے تھے اور اگر وہ صبح تک پڑھتے رہتے تو فرشتے صبح تک سنتے رہتے، لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔