نبی ﷺ نے جبریل کو جنت کے بالائی حصے میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ راوی نے عاصم بن ابی بہدلہ سے ان پروں کی ہیئت کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھیں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا۔ البتہ کسی صحابی نے انھیں بتایا کہ ہر پر اس قدر عظیم اور بڑا ہے کہ مشرق و مغرب کو گھیرے ہوئے ہے۔ دوسری صحیح احادیث میں بھی آیا ہے: ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھرکم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا۔