قیامت تب تک نہ آئے گی جب تک کہ مکہ و مدینہ اور اس کے گرد و نواح سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جائے جو شام میں واقع بُصریٰ شہر میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔ مدینہ میں سن چھ سو چَوّن (654) ہجری میں ایک آگ ظاہر ہوئی تھی جو بہت بڑی تھی۔ یہ مدینہ کے مشرقی جانب مقامِ حرہ کے پیچھے سے نمودار ہوئی تھی۔ شام اور باقی تمام علاقوں کے رہنے والے لوگ اس آگ کے بارے میں تواتر کے ساتھ جانتے ہیں اور اس وقت کے علماء نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے جیسے امام نووی، امام قرطبی اور امام ابو شامہ رحمہم اللہ۔