اس حدیث میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور ان کو بنی اسماعیل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر قریش کو منتخب کیا اور اس کو قبیلہ کنانہ کے بقیہ قبائل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر بنی ہاشم کو منتخب کیا اور اس کو قریش کی بقیہ قبائل پر فضیلت دی۔ پھر محمد ﷺ کو منتخب کیا اور ان کو بنی ہاشم پر فضیلت دی۔ آپ ﷺ کُلْ اولاد آدم کے سردار ہیں اور سب سے بڑھ کر فضیلت والے ہیں۔ ان سب کے باوجود آپ ﷺ نے کسی ایک پر فخر نہیں کیا بے شک آپ ﷺ اس مقام پر اللہ کی طرف سے ملنے والی وحی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ ہی وہ ہوں گے جن کو قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔ آپ ﷺ ہی پہلے انسان ہوں گی جو سفارش کریں گے اور آپ ﷺ ہی وہ پہلے ہوں گے جن کی سفارش قبول کی جائے گی۔