عبداللہ بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں تقدیر کے مسئلہ میں کچھ اشکال و اشتباہ پیدا ہوگیا اور انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ اشکال انھیں تقدیر کے انکار تک نہ پہنچادے، چنانچہ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے وہ اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے لگے۔ لہذا اسی طرح ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ”پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو“ پر عمل کرتے ہوئے، اپنے مشتبہ و مشکل مسائل کے بارے میں علمائے کرام سے حل دریافت کرے۔ چنانچہ ان سارے علماء نے ابن فیروز دیلمی کو یہی فتویٰ دیا کہ قضاء و قدر پر ایمان لانا لازمی ہے اور عظیم کمیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ کو اس شخص سے قبول نہیں کیا جائے گا جس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور جو اس حال میں مرجائے کہ تقدیر پر اس کا ایمان نہ ہو تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔