عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔