سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی نام بیان کیے ہیں، جن میں سے یہنام ہمیں یاد رہ گئے ہیں : محمد، احمد، المقفی یعنی آخری نبی، الحاشر یعنی سب سے پہلے میدان حشر میں لائے جانے والا انسان، نبی الرحمۃ یعنی اپنی لائی ہوئی شریعت کے حوالے سے سارے جہان والوں کے حق میں اور کچھ خصائص کی بنا پر بطور خاص ایمان والوں کے حق میں مہربان و شفیق، نبی التوبہ یعنی نیت اور زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کے ذریعے توبہ قبول ہونے کا پیغام لانے والے نبی، جب کہ کچھ اگلی امتوں میں توبہ کے لیے ضروری تھا کہ آدمی اپنی جان لے لے، یا پھر نبی التوبہ (توبہ والے نبی ) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبی جس کی امت میں توبہ کے معاملات بکثرت ہوا کریں گے، کیوں کہ جب آپ کی امت تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑی ہوگی، تو اس میں توبہ کے واقعات بھی دیگر امتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔ آپ کا ایک نام نبی الملحمۃ (جنگ کا نبی) بھی ہے، کیوں کہ آپ اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے جہاد کے حریص تھے۔