عاصم بن احول عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ آپ نے فرمایا: ”اور تمھاری بھی مغفرت فرمائے“۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔ صحیح - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کے حق میں دعائے مغفرت کی، تو بدلے میں نبی ﷺ نے ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی۔ عاصم احول نے عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انھوں نے اس کا استدلال نبی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔