ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا تو کچھ مسلمان مشرکین کو پیٹھ دے کر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگا کر اسے کفار کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور اسے دشمن کی جانب بڑھنے سے روک رہا تھا جب کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔ سمرہ (ببول) وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ کرام نے ہجرت کے چھٹے سال صلح حدیبیہ کے دن بیعت کی تھی۔عباس رضی اللہ عنہ ایک قوی آواز شخص تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اے اصحابِ سمرہ؟۔ یعنی درخت تلے ہونے والی اپنی اس بیعت اور اس کے تقاضے کو فراموش مت کرو۔ اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز کو سنا کہ میں انہیں پکار رہا ہوں تو وہ اس سرعت سے آئے جیسے گائیوں کے ریوڑ سے جب ان کے بچے اوجھل ہو جائیں تو وہ تیزی سے آتی ہیں۔ وہ بیک زبان یا فردا فردا کہہ رہے تھے: اے قوم! ہم حاضر ہیں، اے قوم! ہم حاضر ہیں۔ مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑائی شروع ہو گئی۔انصاریوں کے لیے یہ پکار لگ رہی تھی: اے انصاریو! اے انصاریو!۔ پھر یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گئی اور اے بنو حارث! کی پکار لگ رہی تھی۔ بنو حارث ایک بہت بڑا قبیلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے اور اسی حالت میں آپ ﷺ نے گویا اپنی گردن بلند کرتے ہوئے ان کفار کے ساتھ لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اس وقت لڑائی خوب گرم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں اٹھا کر انہیں ان کافروں کے چہروں پر مارا اور بطور اچھے شگون یا خبر دینے کی غرض سے فرمایا کہ محمد کے رب کی قسم! یہ کفار شکست کھا چکے ہیں۔ میں دیکھنے گیا تو مجھے لڑائی اپنی حالت پر قائم نظر آئی۔ اللہ کی قسم! جب سے آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں، تب سے ان کازور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور اُن کی حالت مسلسل ابتر ہو نے لگی۔