رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نمازِ عید بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو خطبہ دیا، اوامر کی بجاآوری، نواہی سے اجتناب اور ظاہر وباطن ہر حال میں اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کو لازم پکڑ کر اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدے وعید یاد دلائے تاکہ وہ رغبت و رہبت اور بیم و امید کے ساتھ نصیحت حاصل کریں۔ عورتوں کا مردوں سے الگ ہونے کی وجہ سے وہ خطبہ نہیں سن سکتی تھیں اور آپ ﷺ ہر چھوٹے بڑے (کی ہدایت) کے لیے حریص، نرم دل اور مشفق ہونے کی وجہ سے عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو وعظ و نصیحت کی، ان کو مزید وعظ کرتے ہوئے ان کے لیے یہ واضح کیا کہ ان کی کثیر تعداد جہنمی ہے اور ان کی نجات کا راستہ صدقہ ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ختم کرتا ہے۔عورتوں کے بیچ میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے اکثریت کے جہنمی ہونے کا سبب پوچھا تاکہ وہ اس سے نجات پانے کا سامان کر سکیں۔ آپﷺ نے فرمایا :تم کثرت سے شکوے شکایت کرتی ہو، ناپسند یدہ گفتگو کرتی ہو اور تمہارے محسن کی طرف سے ایک دفعہ بھی کوئی کمی آ جائے تو تم اس کی بہت ساری اچھائیوں کا بھی انکار کر بیٹھتی ہو۔ (پھر کیا تھا) صحابیات نے خیر کی طلب، اور اللہ کے غضب سے بچنے میں مسابقت شروع کر دی۔اپنے ہاتھوں اور کانوں میں پہنے ہوئے زیورات، انگوٹھیوں اور بالیوں کا صدقہ کرنا شروع کردیا اور یہ ساری چیزیں اللہ کی رضا اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔