انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک گداز تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی خوشبو بھی خوشگوار ہوتی تھی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خوشبو سے عمدہ کوئی خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی دس سال تک خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا۔ یعنی خدمت کے دس سال کے دوران آپ ﷺ کبھی کبھی انہیں اُف تک نہ کہا یعنی انہیں کبھی ڈانٹا نہیں اور نہ ہی کسی کیے جانے والے کام کے بارے میں یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے۔؟ حتی کہ وہ اشیاء جو انس بن مالک خود کرتے تھے اس پر بھی آپ ﷺ نہ تو ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور نہ یہ کہتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ حالانکہ وہ ایک خادم تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے انہیں کسی نہ کیے جانے والے کام پر یہ بھی نہ کہا کہ تم نے یہ اور یہ کیوں نہیں کیا؟۔ یہ آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ایک مظہر ہے۔