ابو مریم ازدی کہتے ہیں کہ وہ ایک دن معاویہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، تو وہ ان کی تشریف آوری سے بہت خوش ہوئے اور ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پھر ابو مریم رضی اللہ عنہ نے انھیں ایک حدیث سنائی، جو انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی تھی اور جس میں ہے کہ جسے اللہ مسلمانوں کا والی بنائے اور ان کے معاملات سنبھالنے کا موقع عطا کرے، پھر وہ لوگوں کے حقوق کو، جن کی ادائیگی اللہ نے اس پر واجب کی ہے، ادا نہ کرے، لوگوں کے لیے اپنا دروازہ بند رکھے اور ان کو ضرورت پیش کرنے کا موقع نہ دے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی ضرورت سے پردہ کر لے گا۔ یہ دراصل اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ ہوگا، کیونکہ اللہ کے یہاں ہر عمل کا بدلہ اسی جنس کے عمل سے دیا جاتا ہے اور جب اللہ اس کی جاجت سے پردہ کر لے گا، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسے اپنے فضل و کرم، انعام و نوازش اور رحمت سے محروم کر دے گا۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سنائی گئی، تو انھوں نے ایک آدمی متعین کر دیا، جو لوگوں کا استقبال کرے، ان کی ضروریات کو سنے پھر ان کو ان تک پہنچائے، یہ اس وقت کى بات ہے جب وہ امیرالمؤمنین ہوا کرتے تھے۔