انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو اپنے اہل و عیال اور چھوٹے بچوں پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو۔ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے قریب آباد ایک بستی کی دایہ دودھ پلایا کرتی تھی۔ نبی ﷺ ابراہیم کی زیارت کے لیے وہاں جایا کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ بھی ہوتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو گھر دھویں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ دایہ کا شوہر لوہار تھا۔ نبی ﷺ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، انہیں پیار کرتے اور واپس لوٹ آتے۔جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا ہے، وہ شِیرْخوارگی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے، جنت میں دو دایہ اس کی مدت رضاعت پورا کرنے کے لیے اسے دودھ پلا رہی ہیں تاکہ دو سال مکمل ہو جائیں۔ کیونکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی عمر سولہ یا سترہ ماہ تھی۔ دو سال میں سے جو مدت باقی رہ گئی اسے پورا کرنے کے لیے وہ دونوں دایہ انہیں دودھ پلا رہی تھیں کیونکہ قرآن کی رو سے مدت رضاعت دو سال ہے۔ یہ ابراہیم رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بطورِ اکرام تھا۔