عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کو بیان کر رہی ہیں کہ آپ ﷺ اس مرض میں تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی، آپ ﷺ سوال کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“یہ سوال اپنی بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کے لیے اجازت لینے کا اشارہ تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ یہ بات سمجھ گئیں اور آپ ﷺ کو اس کی اجازت دے دی، آپ ﷺ انہیں کے حجرے میں رہے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کرلی اس حال میں کہ آپ ﷺ کا سر ان کے سینے پر تھا، (بین سحرھا) یعنی سینہ کے بالائی یا پیٹ کے نچلے حصے کے مابین اور ”ونحرھا“ یعنی گردن میں ہار پہننے کی جگہ، پھر انہوں نے بیان کیا ہے کہ مسواک کے ذریعہ ان کا تھوک رسول اللہ ﷺ کے تھوک کے ساتھ مل گیا تھا، وہ اس طرح کہ اسی وقت حالتِ نزع میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبد الرحمٰن بن ابو بکر نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور ان کے پاس ایک تر مسواک تھا، جس سے اپنے دانتوں سے رگڑ رہے تھا، جب نبی ﷺ نے عبد الرحمٰن کے ہاتھ میں مسواک دیکھا تو اس جانب نگاہ اٹھائی گویا اس کی رغبت رکھتے ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہ اسے سمجھ گئیں اور اپنے بھائی سے مسواک کو لے لیا، اور مسواک کے بنے ہوئے سرے کو تراشا، اور نیا سرا بنایا، اسے چبا کر خوب نرم کیا، پھر نبی ﷺ کو پیش کیا جس سے آپ ﷺ نے مسواک کیا، تو گویا عائشہ رضی اللہ عنہا قابل رشک اور خوش قسمت تھیں اور ان کے لیے یہ لازم تھا، کہ نبی ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا۔