اس حدیث میں غلاموں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر زور دیا گیا ہے خاص کر ان کے لباس اور کھانے کے معاملے میں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کو ان کی طاقت سے زیادہ انہیں مکلف نہ بنایا جائے، تاہم سونپ بھی دیا تو اس کام میں ان کی مدد کرے۔ اور اس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو دوسرے کو عار دلائے اور ان کو حقیر جانے، اس لیے کہ وہ ہمارے دینی بھائی ہیں۔