طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وعن ابیہ ہمیشہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے، پھر ان کے ساتھ بازار جاتے۔ طفیل فرماتے ہیں کہ جب ہم بازار میں داخل ہوتے تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی بساطی چیز بیچنے والے کے پاس سے گزرتے۔ بیاع السقاط سے مراد ہے ردِّی وُدِّی بیچنے والا۔ ”ولا صاحب بَيْعَةٍ“ اس سے مراد مہنگی اور نفیس اشیاء بیچنے والا۔ ”ولا مسكين ولا أحد إلا سلَّم عليه“ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما جس سے ملتے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، ہر ایک کو سلام کرتے۔ طفیل رضی اللہ عنہ وعن ابیہ نے کہا ”فجئت عبد الله ابن عمر يوماً“ یعنی میں کسی کام کے لیے ان کے پاس آیا تو انہوں نے بازار جانے کے لیے مجھے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ میں نے ان سے کہا: ”ما تصنع بالسوق وأنت لا تقِف على البَيع“ یعنی آپ بازار جا کر کوئی چیز بیچتے یا خریدتے نہیں، بلکہ سامان کے بارے میں پوچھتے بھی نہیں اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اور نہ کوئی اور ایسا کام کرتے ہیں جو بازاروں میں ہوتے ہیں! جب آپ کے پاس بازار لے جانے والا کوئی سبب نہیں ہے تو پھر جانے کا فائدہ ہی کیا جب کہ آپ کو بازار جانے کی کوئی ضرورت بھی تو نہیں ہے؟! ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے بڑے پیٹ والے – راوی کا بیان ہے کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا – یعنی طفیل کا پیٹ ان کے سینے کے برابر نہیں تھا، بلکہ اس سے بڑھا ہوا تھا۔ ”إنما نَغْدُو من أجل السلام ، فنسلِّم على من لقيناه“ یعنی بازار جانے کا مقصد کوئی چیز خریدنا یا وہاں بیٹھنا نہیں، بلکہ سلام کرکے نیکیاں کمانا ہے۔ یہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا لوگوں میں سلام پھیلا کر سنت پر عمل کرنے کی حرص تھی۔ اس لیے کہ انہیں یہ علم تھا کہ یہ تو ٹھنڈی غنیمت (یعنی بلا تعب و مشقت ثواب پانا) ہے، مختصر کلمات ہیں جو انسان پر کچھ بھی گراں نہیں۔ اس میں بہت زیادہ خیر ہے۔