عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "ایک عورت کو ایک بلی کى وجہ سے عذاب دیا گیا، جسے اس نے قید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ تو وہ اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی، کیونکہ قید کرنے کے بعد نہ اسے کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی"۔ صحیح - متفق علیہ
explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ایک عورت کے بارے میں بتایا ہے، جو جہنم ( اللہ ہمیں اس سے بچائے!) میں داخل ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھ دیا اور وہ بھوک پیاس سے بے تاب ہوکر مر گ‏ئی۔ اس نے نہ تو اسے کچھ کھانے کو دیا، نہ پینے کو دیا اور نہ چھوڑا کہ خود دوڑ بھاگ کرکے زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھا لیتی۔ جب جانوروں کے بارے میں یہ وعید ہے، تو بیوی، بچے اور نوکر چاکر وغیرہ جیسے بے گناہ ماتحت لوگوں کی ذمے داری ادا نہ کرنا کتنا بڑا گناہ ہو سکتا ہے؟