عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا، جو شراب پیے ہوئے تھا۔ شراب پینے کا علم فقط قرینۂ حال سے ہو رہا تھا؛ کیوں کہ اس میں ہے "اس کی داڑھی سے شراب ٹپک رہی تھی" ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شرعی طور پر ہمیں تجسس سے روکا گيا ہے؛ کیوں کہ اس آدمی کی ظاہری حالت بتا رہی ہے کہ اس نے چھپ کر پیا ہے۔ لیکن لوگ انھیں ٹوہ لگا کر اس حالت میں نکال لائے ہیں۔ البتہ اگر کوئی چیز واضح ہو جائے اور عادل گواہوں کی گواہی بھی مل جائے یا ٹوہ لگائے بغیر وہ اقرار کر لے، تو ہم اس کے جرم کے مطابق حد یا سزا نافذ کریں گے۔ لیکن جو اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھے گا، ہم اس کا مؤاخذہ نہیں کریں گے۔