یہ حدیث مسکین کی حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مساکین میں سے قابل تعریف، صدقے کا حق دار اور اس کا ضرورت مند وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔ گھوم پھر کر مانگنے والے شخص سے آپ ﷺ نے مسکینیت کی نفی کی؛ کیوں کہ اس تک بقدر کفایت سامان وغیرہ پہنچتا رہتا ہے۔ بعض اوقات اسے زکوٰۃ مل جاتی ہے، جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ ضرورت تو اس شخص کی باقی رہتی ہے، جو مانگتا نہیں ہے اور بطور شفقت اسے کوئی کچھ دیتا بھی نہیں ہے۔