حدیث کا مفہوم: ابو ذر رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہيں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ میں کالے پتھروں والی زمین (حرہ) پر چلے جا رہے تھے کہ سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل پسند نہ ہوتی کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں“۔ یعنی یہ بات مجھے خوش نہيں کرتی کہ تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ بچا رہے ایک دینار بھینہیں، ”ما سوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں“ یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر خالص سونا ہوتا تو میں وہ سارا کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑتا سوائے اس شے کے جس کی مجھے حقوق پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے ضرورت ہوتی۔ اور جو کچھ اس سے زائد ہوتا تو ميں اس بات کوبالکل پسند نہيں کرتا کہ تين دن گزر جائيں اور اس ميں سے کچھ بھی ميرے پاس باقی رہے۔ يہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں بالکل بھی رغبت نہیں تھی کیونکہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مال جمع کریں سوائے اس شے کے جسے آپ ﷺ قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال رکھتے۔ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جَو کے بدلے رہن ميں رکھی ہوئی تھی جسے آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے ليے ليے تھے۔ اگر اللہ عز و جل کے نزدیک دنیا محبوب ہوتی تو اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کو اس سے محروم نہيں رکھتا۔ لیکن دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے اور سوائے عالم اور متعلم کے اور ان کاموں کے جو اللہ کی اطاعت گزاری میں ہوں۔ پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ”زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے“ یعنی جن کے پاس دنیا کی کثرت ہو گی قیامت کے دن ان کے پاس نیک اعمال کی کمی ہو گی۔ کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس دنیا کے مال کی کثرت ہو جاتی ہے وہ استغنا اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتا ہے کیونکہ دنیا اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے چنانچہ وہ دنیا میں تو بہت مال والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں تہی دامن ہوگا۔ ”جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح دیا“ یعنی مال کو، اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔ ”اور ایسے لوگ کم ہی ہیں“ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ بہت کم ہیں۔ پھر فرمایا: ”جو بھی اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ زنا اور چوری بہت ہلکے گناہ ہیں بلکہ یہ بہت ہی بڑے گناہ ہیں۔ اسی لیے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت بڑی لگی اور انہوں نے پوچھا کہ ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“، ایسا اس وجہ سے ہے کہ جو شخص حالت ایمان میں مر جاتا ہے اور اس پر کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تو (ایسے لوگوں کے بارے میں) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس شخص کو معاف کر دے اور اسے عذاب (بھی) نہ دے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے عذاب دے، تاہم اگر عذاب دے گا بھی تو بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس نے کسی کفریہ بات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔ البتہ جس نے کسی کفریہ عمل کا ارتکاب کیا اور اسی پر اس کی فوات ہوئی ہو تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کا عمل رائیگاں جائے گا۔ کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ﴾ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ وہ اللہ کا ذکر تو کرتے تھے لیکن بہت کم اور نماز تو پڑھتے تھے لیکن: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“ اس کے باوجود وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختيار کرنے کی دليل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اپنا دل اس دنيا میں نہیں لگانا چاہیے اور یہ کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں اس کی جگہ نہ ہو۔ تاکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اللہ عز وجل کی طرف متوجہ ہو۔ یقینا یہی کمالِ زہد ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ اس دنيا میں سے کچھ بھی نہ لیں، بلکہ جو چیز آپ کے لیے حلال ہو وہ لیں اور اس میں سے اپنا حصہ نہ بھولیں لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اپنے دل میں اسے جگہ نہ دیں۔ اور يہی اہم بات ہے۔