حديث ميں اس بات کا بيان ہے کہ فجر کی دو سنتيں پڑھنے کے بعد فرض نماز کی اقامت تک دائيں کروٹ پر ليٹنا مسنون ہے۔ دائيں جانب کی تخصيص ميں حکمت يہ ہے کہ انسان گہری نيند نہ سوجائے، کيونکہ دل انسان کے بائيں طرف ہوتا ہے لہذا اس حالت ميں انسان کا دل لٹکا ہوا رہتا ہے اور قرار وسکون نہيں حاصل ہوتا ہے ، اور جب بائيں کروٹ پر ليٹتا ہے تو وہ مکمل راحت اور سکون ميں ہوتا ہے اسی لئے گہری نيند سوجاتا ہے۔