اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اس میں کمی بیشی ہو گئی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز میں کسی تبدیلی کا حکم آ گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا پھر انھیں بتایا کہ وہ بھی ان جیسے انسان ہیں اور نماز میں کمی بیشی کے اعتبار سے بھول سکتے ہیں۔ پھر یہ حکم بیان کیا کہ جو شخص بھول کر نماز میں کمی بیشی کر بیٹھے تو پھر ادا شدہ عدد رکعات کو یقینی کر لے اور اگر اس میں نقص آ گیا ہے تو اس کے مطابق نماز پوری کرے اور سہو کے دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔