عالیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“