ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر حملہ آور ہو کر اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جس شخص کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ دانت کاٹنے والا اپنے گر جانے والے دونوں دانتوں کی دیت مانگ رہا تھا، جب کہ جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا وہ اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہا تھا کہ اس نے تو اپنے ہاتھ کو اس کے دانتوں کی گرفت سے آزاد کرنا چاہا تھا۔ نبی ﷺ نے دانت کاٹنے والے مدعی پر نکیر کی کہ اس نے کیسے ایسا عمل کیا جسے اکھڑ (اجڈ) جانور کرتے ہیں؟ اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو دانت کاٹتا ہے اور پھر زیادتی کا مرتکب ہونے والے اپنے دانتوں کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آجاتا ہے؟! تمہارے لئے کوئی دیت نہیں؛ کیونکہ آغاز کرنے والا ہی جارح اور زیادتی کرنے والا ہے۔