اس حدیث میں سب سے اچھا گواہ اسے کہا گيا ہے، جو گواہی طلب کرنے سے پہلے گواہی دے۔ یہ دحدیث دراصل اس کے ایک بہترین انسان ہونے اور حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے اقدام کے استحسان کی دلیل ہے۔ لیکن یہ حدیث اس حالت پر محمول ہوگی، جب صاحب حق اس گواہی سے واقف نہ ہو یا بھول گیا ہو۔ ایسی صورت میں گواہ کے لیے گواہی درج کرانے کے لیے آگے بڑھنا مشروع ہے۔ گرچہ اس سے گواہی طلب نہ کی گئی ہو۔ دراصل یہ سب سے بہتر صورت ہے اس حدیث کے اور ان حدیثوں کے بیچ تطبیق کی، جن کے اندر بن بلائے گواہی دینے کی مذمت کی گئی ہے۔