اس حدیث سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شرابی کو شراب کی حد کے طور پر کھجور کی ٹہنی سے چالیس ضربیں لگائیں۔خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ شام وغیرہ کی فتح کے بعد انگور اور باغات کی کثرت کی وجہ سے جب لوگوں میں شراب نوشی زیادہ ہو گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد سے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شراب نوشی کی حد وہ مقرر کی جائے جو سب سے کم حد ہے (سوائے شراب کی حد کے) اور وہ اَسّی کوڑے ہے۔ کثیر صحابہ نے اس بات پر اتفاق کیا ۔ اسی لیے جمہور فقہاء نے یہ کہا ہے کہ شراب نوشی کی حد اَسّی کوڑے ہے اور یہ اصلاً ثابت ہے اجتہاد کے قبیل سے نہیں ہے۔ اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے اس میں زیادتی کا اجتہاد اس وقت کیا جب شراب نوشی کثرت سے عام ہو گئی جب کہ لوگ اس چیز سے ہار ماننے والے نہیں تھے کہ اس کی تعداد کیا ہے۔