حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔