یہ حدیث ایسے شخص کے لیے نماز کا طریقہ بتا رہی ہے، جو قرآن بالکل یاد نہ کر سکتا ہو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی کی رہ نمائی فرمائی، جو قرآن کریم میں سے کچھ بھی یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ وہ سبحان اللہ،(اللہ ہر عیب سے پاک ہے) والحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) ولاالٰہ الا اللہ،(یعنی معبود برحق اگر کوئی ہے، تو وہ صرف اللہ ہے) واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (اللہ سب سے بڑا ہے اوراس کے سوا کسی میں بھی یہ طاقت نہیں کہ کسی کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جائے) پڑھ لیا کرے۔ جب اس اعرابی نے یہ پوچھا کہ وہ نماز میں اپنے لیے کون سی دعا کرے؟ تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل اس دعا کی رہ نمائی فرمائی: ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ (اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما) رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سیکھنے والے صحابی کے حق میں یہ فرماکر ان دعاؤں اور اذکار کی اہمیت جتلا دی کہ: ”أما هذا فقد ملأ يده من الخير“ یعنی اس نے خیر سے اپنا دامن بھر لیا۔