نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے باشندے جو کھیتیوں اور باغات کے مالک تھے بیع سلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ قیمت کو پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے اور پھلوں کی ادائگی کو ایک سال یا دو سال یا تین سال تک موخر رکھتے۔ نبی ﷺ نے انہیں اس معاملے کی اجازت دی اور اسے بیع کی اس قسم میں سے نہیں گردانا جس میں بائع ایسی شے فروخت کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور جو غرر تک لے جاتی ہے۔ کیونکی بیع سلم کا تعلق ذمہ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ اشیاء کے ساتھ۔ تاہم نبی ﷺ نے اس معاملے کے کچھ احکامات کی وضاحت فرما دی جو لوگوں کو ان لڑائی جھگڑوں سے بچاتے ہیں جو بعض اوقات مدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی شے میں بیع سلم کرے اسے چاہئے کہ وہ شرعی طور پر معروف کیل اور وزن کے آلات کے ذریعے اس کی مقدار کا پوری طرح تعین کرے اور اسے ایک مقررہ مدت تک رکھے تاکہ اس کی مقدار اور مدت معلوم ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا کا احتمال نہ رہے اور خریدار اپنا حق پوری طرح سے وصول کر لے۔