نبی ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کو مسجد کے ستونوں میں سے دو ستونوں کے مابین ایک رسّی تنی ہوئی دکھائی دی۔ آپ ﷺ نے اسے لٹکانے کا سبب دریافت کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے جو خوب دیر تک نوافل ادا کرتی ہیں اور جب تکان محسوس کرتی ہیں تو رسی کو تھام لیتی ہیں اور تب بھی نماز پڑھتی رہتی ہیں۔ آپ ﷺ نے رسی کو ہٹانے کا حکم دیا اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دی اور اس میں بہت ہی زیادہ مستغرق ہوجانے سے منع فرمایا تاکہ عبادت پوری بشاشت کے ساتھ ہو۔