ابو جعفر محمد بن علی اور ان کے والد، جلیل القدر صحابی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ غسلِ جنابت کے لیے پانی کی کتنی مقدار کافی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ”تمھارے لیے ایک صاع پانی کافی ہے“۔ جابر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود لوگوں میں حسن بن محمد بن حنفیہ بھی تھے۔ وہ کہنے لگے کہ غسل جنابت کے لیے میرے لیے اس قدر پانی کافی نہیں ہے۔ اس پر جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا پانی ان کے لیے کافی ہو جایا کرتا تھا، جن کے بال تم سے زیادہ لمبے اور گھنے تھے اور وہ تم سے بہتر تھے اور یقینا ان کو اپنی طہارت اور دین کی تم سے زیادہ فکر تھی۔ ان کی مراد نبی ﷺ تھے۔ اس حدیث میں اتباعِ سنت اور اس بات کی ترغیب ہے کہ دوران غسل پانی کا فضول استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔