غزوہ تبوک میں عوف بن مالک نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ: چھ ایسی علامات کو شمار کر لو جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح۔ اس علامت کا وقوع عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ پھر ایک جان لیوا وبا آئے گی جو تم میں پھیل جائے گی اور تم اس تیزی کے ساتھ مرو گے جیسے مویشیوں میں وباء پھیلنے سے وہ مرتے ہیں۔پھر مال کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراضگی کا اظہار کرے گا کیوں کہ اس کی نظر میں یہ بہت تھوڑی رقم ہو گی۔ کہتے ہیں کہ یہ کثرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ظاہر ہوئی جب فتوحات کی کثرت ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا اور عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں یہ داخل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اور اس کی وجہ سے اس کے بعد ظہور پذیر ہونے والے فتنے ہیں۔ پھر مسلمانوں اور رومیوں کے مابین صلح ہو گی تاہم وہ مسلمانوں کے ساتھ غداری کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئیں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار جنگ جو ہوں گے اور ان کی کل تعدا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔