اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، اور وہ نبی ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، عائشہ رضی اللہ عنھا کے انہیں دیکھنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا، نبی ﷺ کا مدینہ طیبہ میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی بکری ذبح فرماتے تو خدیجہ رضی اللہ عنھاکی سہیلیوں کے ہاں اس کے کچھ گوشت کاہدیہ بھیجتے ، عائشہ رضی اللہ عنھا برداشت نہ کرپاتیں اور کہہ دیا کرتیں :اے اللہ کے رسول!ایسا لگتا ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا دنیا میں کوئی اور خاتون ہی نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ یہ فرماتے کہ وہ ایسے کرتی تھیں، یوں کرتی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی خوبیاں ذکر فرماتے۔ نیز آپ ﷺ اس محبت، بے پناہ پیار اور انتہائی گہری وابستگی کے راز میں زور پیدا کرتے ہوئے فرماتے کہ "ان سے مجھے اولاد بھی ہے"۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند، ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا آپ ﷺ کی جملہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے،خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے تھے اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو قبطی بادشاہ نے نبی ﷺ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ ایک مرتبہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہما تشریف لائیں اور گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کے اجازت مانگنے کا انداز، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اجازت مانگنے جیسا تھا کیونکہ ان کی آواز، ان کی بہن جیسی تھی، چنانچہ آپ ﷺ کو اس سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد آگئی تو آپ ﷺ میں خوشی و مسرت کے جذبات امنڈ آئے۔