نبی ﷺ نے مسجد کی قبلہ کی طرف والی دیوار میں بلغم لگا دیکھا تو آپ ﷺ کو یہ بہت ناگوار گزرا یہاں تک کہ ناگواری کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے خود کھڑے ہو کر اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے، اپنے رب کے سامنے اظہار تواضع کے لئے اور اس کے گھر کی محبت کے اظہار کی غرض سے اپنے ہاتھ مبارک سے اس بلغم کو دور کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کا ذکر کر رہا ہوتا ہے اور اس سے دعا میں مشغول ہوتا ہے اور اس کی آیات کی تلاوت کررہا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقام کے لائق یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرے، اس ذات کی عظمت کو یاد رکھے جس سے وہ ہم کلام ہے اور دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو اور اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی طرح کی بے ادبی کرنے سے باز رہے۔چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ قبلہ کی سمت میں نہ تھوکے۔ پھر آپ ﷺ نے اس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جس کا نمازی کے لیے اس طرح کی صورت میں کرنا مناسب ہے۔ یعنی وہ اپنے بائیں جانب تھوکے یا پھر اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے یا پھر اپنے کپڑے وغیرہ میں تھوکے اور پھر اسے دور کرنے کے لئے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دے۔ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ اس بات كا احساس ركھے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے ہے اوریہ کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اگرچہ وہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے، پھر بھی وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“ (سورہ شوری: 11)۔ اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا ہے یا پھر وہ اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں نمازی نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالی نمازی اور دعا کرنے والے کے اس طور پر قریب ہوتا ہے جو اس کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اللہ کا قرب ایسا نہیں ہوتا جیسا مخلوق کا مخلوق سے قرب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو خالق بزرگ و برتر کا مخلوق کے ساتھ قرب ہے۔ مخلوقات میں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سورج ہوتا ہے۔ سورج گو آپ کے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلوع و غروب ہونے کی حالت میں آپ کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ وللہ المثل الأعلى.