نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ رحم مادر کے امور کو سنبھالتا ہے۔ رحم سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں ماں کے پیٹ میں بچہ پرورش پاتا ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: ”أي ربّ نطفة“ یعنی یہ نطفہ ہے۔ نطفہ سے مراد مرد کا مادہ منویہ ہے۔ یہی مفہوم اس کے بعد والے جملے کا بھی ہے کہ: ”أي ربّ علقة“ یعنی اے رب! یہ علقہ بن چکا ہے۔ علقہ سے مراد گاڑھا خون ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ”أي ربّ مضغة“ یعنی اے رب یہ مضغہ بن چکا ہے۔ مضغہ گوشت کے ٹکڑے کو کہا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان ادوار میں سے ہر ایک کی مدت چالیس دن ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اس کی پیدائش کو مکمل کرنا چاہتا ہے“ یعنی اس مضغہ کی پیدائش کو، کیوںکہ ان ادوار میں سے آخری دور یہی ہوتا ہے۔ 'القضاء' سے مراد ہے اس کی پیدائش کو پورا کرنا، بایں طور کہ اس میں روح پھونک دی جائے۔ جیسا کہ اس کی وضاحت ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ ایسا ایک سو بیس دن کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے: ”أي رب أذكر أم أنثى“ یعنی اے رب! میں اسے مرد لکھوں یا عورت؟ ”أشقي أم سعيد“ یعنی آیا میں اسے اہل دوزخ میں سے ایک بدبخت لکھوں یا پھر جنتیوں میں سے ایک خوش بخت؟ ”فما الرزق“ یعنی اس کا رزق کم ہے یا زیادہ اور کتنا ہے؟ ”فما الأجل“ یعنی اس کی عمر کتنی ہے، لمبی ہے یا مختصر؟ ”فيكتب كذلك في بطن أمه“ یعنی بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے کہ یہ سب ذکر کی گئی اشیا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق لکھ دی جاتی ہیں۔