اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چھوٹے بچے تھے اور دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، پکڑ کر چت لٹایا، دل کو چیرا، اس سے جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا نکالا جو کہ تمام برائیوں اور گناہوں کا سرچشمہ تھا اور فرمایا : یہ اگر آپ کے ساتھ رہ جاتا، تو آپ کے اندر شیطان کا ایک حصہ ہوتا۔ پھر دل کو سونے کی ایک طشت میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کے اس حصے کو جہاں چیرا لگایا گیا تھا، ملا کر ٹھیک کیا اور اسے اس کی جگہ میں دوبارہ رکھ دیا۔ ادھر آپ کے ساتھ کھیلنے والے بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے دائی حلیمہ کے پاس آئے اور بتایا کہ محمد کو مار دیا گیا ہے۔ چنانچہ لوگ بھاگم بھاگ پہنچے، تو دیکھا کہ آپ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ اس حدیث کے راوی سیدنا انس رضی اللہ عنہ، جو اس حادثے کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن یقینی طور پر اس کی اطلاع ان کو تواتر اور شہرت کے ساتھ یا کم سے کم کسی ثقہ سے ملی ہوگی، کہتے ہیں کہ میں آپ کے سینے پر سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کے دیگر متعدد دلائل میں سے ایک دلیل ہے کہ سینے کو چیرنے کا واقعہ معنوی نہیں بلکہ حسی تھا۔ یہ اور اس طرح کی دیگر حدیثوں کو ہو بہو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کی تاویل کرتے ہوئے انھیں مجازی معنی پر محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ در اصل یہ سچے اور سچے تسلیم کیے گئے نبی کے ذریعے قدرت والے اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔