نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی جو بتوں کے بارے میں ہے کہ ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”اے رب! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے وہ میرے ہیں“۔ (سورہ ابراھیم: 36)۔ اور اسی طرح عیسی علیہ السلام کے قول کی بھی تلاوت فرمائی کہ ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُم فَإِنَّهُم عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُم فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ﴾ ”اگر تو ان کوعذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے“۔ (سورہ مائدہ: 118)، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اوررو پڑے۔ آپ ﷺ دعا مانگ رہے تھے کہ: "يا رب؛ أمتي أمتي" یعنی ان پررحم کر اور انہیں معاف کردے۔ اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ ’’ محمد کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیوں روئے ہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان کے رونے کا سبب خوب معلوم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے الفاظ میں اپنے اس قول یعنی امتی امتی کے بارے میں بتا دیا اور اللہ ہی کو بہتر علم ہے کہ اس کے نبی نے کیا الفاظ کہے۔ اس پر اللہ عز و جل نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے معاملے میں آپ کو خوش کریں گے اورآپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ اللہ عزّ وجلّ نے آپﷺ کو اپنی امت کے سلسلے میں کئی وجوہ کی بنا پر راضی وخوش کر دیا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ان وجوہات میں سے کچھ یہ ہیں: بہت زیادہ اجرکا ملنا، نبی ﷺ کی امت کے افراد (دنیا میں) آخر میں آنے والے اور روزِقیامت سب سے پہلے ہوں گے اور اس امت کو کئی اعتبار سے دوسری امتوں پر فضیلت حاصل ہے۔