حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی مسلمان چھینکے، تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف بیان کرے؛ کیوں کہ چھینکنے والا چھینک کے ذریعے اپنے دماغ میں موجود گندے بخارات کے نکلنے کی نعمت و منفعت کو حاصل کرتا ہے کہ اگر وہ دماغ میں موجود رہتے، تو اس سے بہتیری تکلیف دہ بیماریاں پیدا ہوتیں۔ اس لیے اس نعمت کے حصول پر اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ اللہ کی تعریف و حمد بیان کرے۔ پھر اس کا سننے والا ”يَرْحَمُكَ الله“ کہہ کر اسے دعا دے۔ اور چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ کہہ کر اس کا جواب دے۔ اس طرح چھینک کے ذریعے چھینکنے والے اور سننے والے کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور یہ لوگوں پر اس دین کے عظیم فضل و مہربانی کی وجہ سے ہے۔