یہ عظیم دعا مانگتے ہوئے آپ ﷺ نے ایک اعرابی کو سنا، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ اختیار کررہا تھا، جو کہ اسمِ اعظم اور اللہ کی توحید پر مشتمل ہے کہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، لوگ اس سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، اس لیے کہ اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر ایک سے مستغنی ہے، نہ وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ کوئی اس کی ذات، صفات اور افعال میں اس کے مشابہ نہیں۔ یہ وہ عظیم معانی ہیں جو توحید کی اصل اور بنیاد کہلاتی ہیں اور جنھوں نے اس دعا کو عظیم دعاؤوں میں سے بنا دیا۔ جو بھی بندہ اس کے ذریعے اللہ سے دعا مانگتا ہے اللہ اسے جو مانگے عطا کرتا ہے۔