ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات (سرسبز جگہوں) کی طرف چلا جائے گا تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے“۔ صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

اس حدیث میں فتنوں کے دور میں عزلت نشینی کی فضیلت کا بیان ہے ماسوا اس کے کہ اس بندے میں فتنے کو دور کرنے کی طاقت ہو۔اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ فتنے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنا اس پر یا تو فرض عین ہو گا یا پھرحالات و امکانات کے لحاظ سے فرض کفایہ ہوگا۔ تاہم فتنے کے علاوہ دیگر دنوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ان میں انسان کے لیے عزلت نشینی اور لوگوں سے گھل مل کر رہنے میں سی کون سی صورت افضل ہے؟ زیادہ پسندیدہ قول یہی ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہے اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہیں ہو گا۔ "يفر بدينه من الفتن" یعنی اس اندیشے کے تحت بھاگ جائے گا کہ کہیں دین کے معاملے میں وہ فتنوں کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں شرک عام ہو وہ وہاں سے ہجرت کر کے ان علاقوں میں آ جائے جہاں اسلام کا غلبہ ہو اور اسی طرح جن علاقوں میں فسق و فجور کا دور دورہ ہو انہیں چھوڑ کر ان علاقوں میں آ جائے جہاں (اسلام پر) استقامت کا غلبہ ہو۔ لوگوں اور وقت کے تغیر کے ساتھ ایسے ہی کرنا چاہیے۔