اس حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیویوں کے مابین باری سے متعلق عدل و انصاف کا بیان ہے، اس طرح کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تقریبا ہر روز آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے دلوں کی طمانیت کے لیے جماع کے سوا ہر طرح کی ملاطفت و مداعبت فرماتے تھے، پھر جس کے یہاں رات گزارنی ہوتی وہاں جاتے۔ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انھیں خوف دامن گیر ہوا کہ نبی ﷺ انھیں الگ کر دیں گے۔ انھوں نے آپ کی زوجیت میں باقی رہنا اور اس شرف و فضل سے سرفراز رہنا چاہا اور یہ شرف و فضل تمام مومنین کی ماں اور سید المرسلین ﷺ کی بیوی ہونا ہے، اس لیے انھوں نے کہا: میں اپنی باری عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں“ ذکر کیا کہ یہ اسی حالت یا اسی طرح کی چیزوں کے لیے نازل ہوئی۔