اس حدیث میں زمانۂ جاہلیت میں پائے جانے والے نکاح کے طور طریقوں میں سے ایک کی وضاحت کی گئی ہے کہ بعضوں کے نکاح میں بیک وقت عورتوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور وہ متعین تعداد کے پابند نہ تھے، چنانچہ یہ صحابی تشریف لائے اور وہ اسلام لاچکے تھے اور ان کی دس بیویاں تھیں اور شوہر کے ساتھ وہ سب بھی مسلمان ہوگئیں، چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی چار کو اپنالیں اور باقی کو طلاق دے دیں کیونکہ اسلامی شریعت نے مرد کے نکاح میں صرف چار خواتین کو رکھنے کی حد قائم کردی ہے اور تمام مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے۔