ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے“۔ صحیح - اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ وتر کی نماز کا وقت صبح ہونے یعنی طلوعِ فجر ثانی سے ختم ہوجاتا ہے، اوریہ وتر كا اختیاری وقت ہے، اوروترکی نماز کا اضطراری وقت جیسے دیر سے بیدار ہونے والے شخص کے لیے تو یہ فجر کی نماز تک رہتا ہے، جیسا کہ یہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔