یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نےعمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بھی اس وقت اطلاع کرنا جب نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔میں اس دوران آپ ﷺ کو دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نزول وحی کے وقت آپ ﷺکی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اسی دوران نبی کریمﷺ جِعِرّانہ مقام پر موجو د تھے جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں مکہ سے آنے والا شخص عمرہ کی نیت سے احرام باندھتا ہے ــــــــــ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے عمرے کے لیے احرام باندھا ہے جب کہ اس کے کپڑے اور اس کا جسم خوشبو سے رچا ہوا ہے تو وہ ایسی حالت میں کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کر لی اور یہ آپ پر ضروری بھی نہیں کہ سوال کے فوراً بعد جواب دیں۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ یعلیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس آ جائے اور آپﷺ پر نزول وحی کی کیفیت کو دیکھ لے۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سر پر ایک کپڑے کے ساتھ سایہ کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنا سر کپڑے میں داخل کر لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے، سانس کی تیزی کی وجہ سے آواز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ سے نزول وحی کا وقت ختم ہوا تو آپ ﷺ کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس شخص سے فرمایا کہ خوشبو کو بار بار دھوؤ اور یہ تین مرتبہ تک ہو جائے، اور اس کو حکم دیا کہ خوشبو کے آثار اپنے جسم اور کپڑوں سے زائل کرے اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ اپنا جبہ اتار دے کیونکہ یہ سلا ہوا ہوتا ہے ۔اور اپنے عمرے میں بھی ویسے ہی کرے جیسا حج میں کیا جاتا ہے کہ خوشبو وغیرہ سے بچا جائے کیونکہ حج اور عمرہ میں جن چیزوں سے احتزار کیا جاتا ہے وہ ایک ہی ہیں۔