یہ حدیث شریعت اسلامیہ کے امتیازات میں سے ایک امتیاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ وہ ہے پانی کی غیر موجودگی میں تیمم کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی طرف رہ نمائی۔ ”الصعيد الطيب“: یعنی زمین کی پاک مٹی یا اس طرح کی کوئی اور شے جو زمین کے اوپر ہو اور اسی کی جنس سے ہو۔ اسے صعید کا نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ لوگ اس پر چلتے اور چڑھتے ہیں۔ ”وَضوء المسلم“: ان الفاظ میں پاک مٹی کو طہارت کے حصول میں پانی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تیمم پر وُضو کے پانی کا اطلاق کیا؛ کیوں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے۔ پانی کے بدلے میں تیمم کرنے کے سلسلے میں یہ فراہم کردہ آسانی تب تک جاری رہتی ہے، جب تک عذر باقی رہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے“ یا بیس یا تیس یا اس سے بھی زیادہ سال نہ ملے۔ یہاں دس سے مراد کثرت کا بیان ہے نہ کہ تحدید۔ اسی طرح اگر اسے پانی تو مل رہا ہو، لیکن (پانی کے استعمال میں) کوئی حسی یا شرعی مانع ہو، تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے، اگرچہ اس سے حاصل شدہ طہارت ہلکی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے؛ تاکہ نماز کا وقت نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ اس کے باجود جب پانی مل جائے اور اس کی استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے، تو تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اس بات کی طرف راہ نمائی فرمائی کہ حصول طہارت میں جو شے اصل ہے -یعنی پانی کا استعمال-، اس کی طرف رجوع کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمھیں پانی مل جائے، تو اسے اپنے جسم پر بہاؤ“ یعنی حصول طہارت کے لیے وضو یا غسل کرتے ہوئے جسم تک اسے پہنچاؤ اور اس پر اسے انڈیلو۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے“ آپ ﷺ نے بتایا کہ پانی کو دیکھتے ہی تیمم ختم ہو جاتا ہے، بشرطے کہ اسے پانی کے استعمال کی قدرت بھی ہو؛ کیوں کہ موجودگی سے مراد قدرت ہی ہے۔