عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب موجود تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ،اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور اس اونٹنی کا لعاب بہتے ہوئے عمرو کے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس خطبے میں کچھ احکام کی وضاحت فرمائی،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اور اس کے حق میں پہنچنے والے فرض کردہ حصے اور متعین مقدار کو واضح کردیاہے؛ لہٰذا وارث کے لیے وصیت کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بیان کیا کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ بستر والے کا ہوگا؛ لہٰذا اس بچے کی نسبت بستر والے کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کی جائے گی، چاہے وہ صاحب فراش شوہر ہو یا مالک۔ زانی کو بچے کی نسبت اپنی طرف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی بدکاری کے نتیجے میں اس کے حق میں رسوائی و نامرادی ہے اور اس پر حد جاری کیے جانے کا حکم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی حرمت بیان فرمائی کہ کوئی انسان خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا غلام اپنی نسبت، اس کو آزاد کرنے والے مالکان کے علاوہ کسی اور کی جانب کرے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ غیر باپ کی طرف انتساب کرنا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، یا غلام کا اسے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی جانب منسوب ہونا، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اللہ جل و علا کی ذات ایسے شخص کی کوئی فرض اور نفل نیکی نہیں قبول فرمائے گی۔