صفوان بن سوید اور مخرمہ عبدی - رضی اللہ عنہما - ہجر نامی ایک علاقے سے کچھ کپڑا لے کر آئے۔ ”فجاءنا النبي ﷺ فَسَاوَمَنَا بسَرَاوِيلَ“ یعنی نبی ﷺ ان سے کچھ شلواریں خریدنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے بھاؤ تاؤ کیا۔ سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "فاشترى منَّا سراويل" یعنی اس روایت میں بھاؤ تاؤ کا ذکر نہیں ہے۔ ”وعندي وَزَّانٌ يَزِنُ بالأَجْر“ یعنی بازار میں ایک وزن کرنے والا تھا جس سے لوگ پیسے دے کر وزن کرایا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے وزان سے کہا کہ: ”زِنْ وأرْجِح“ اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ نے وزن کرنے والے کو حکم دیا کہ جس پلڑے میں سودا ہو اُسے وزن کرتے ہوئے ذرا زیادہ رکھے تاکہ وہ کچھ جھک جائے اور دوسرے پلڑے سے ذرا وزنی ہو جائے۔ اس کا معنی یہ بالکل نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ جھک جائے کیوں کہ اس سے تو فروخت کنندہ کو نقصان ہو گا بلکہ مراد یہ ہے کہ تھوڑا سا جھک جائے بایں طور کہ یقین ہو جائے کہ خریدار نے بغیر کسی کمی کے اپنا پورا حق لے لیا ہے۔ وزن کرنے کی جو بات اس حدیث میں ہے اس کا تعلق شلواروں سے نہیں ہے اس لیے کہ شلوارون کو وزن نہیں کیا جاتا۔